خبر: اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی - ابنا - کی رپورٹ کے مطابق مطابق 25مارچ کو لوئر کرم ایجنسی کے علاقہ بگن میں حکومت پاکستان کے حمایت یافتہ حقانی کے زیر سرپرستی دہشت گردی کی آشکارا کاروائیاں کرنے والے دہشت گردوں نے شیعہ مسافر کوچز پر حملہ کر کے تین مسافروں کو قتل تھا جبکہ 40 مسافروں کو اغواءکر لیا تھا۔ 28 دن گزرنے کے باوجود بھی پولیٹیکل انتظامیہ و سکیورٹی فورسز و نام نہاد گرینڈ قبائلی جرگہ مغویوں کو بازیاب کرانے میں ناکام رہا!!!روز جمعہ 22 اپریل 2011 کو معلوم ہوا کہ 40 نہتے مغوی مسافروں میں سے آٹھ مسافروں کو ذبح کر کے ان کی لاشوں کو جلا دیا گیا۔ ۔۔۔۔۔۔۔دہشت گردوں نے پرسوں جمعہ کے روز شہیدوں کی سر کٹی اور بغض اہل بیت رسول (ص) کی آگ میں جلی آٹھ افراد کی لاشیں سرکاری اہلکاروں کے حوالے کردیں لیکن کیا "حکومت نے شہیدوں کی لاشیں تحویل میں لیتے ہوئے دہشت گردوں سے بقیہ مغویوں کی خیر خبر بھی لی؟ اس سوال کا جواب تو کمانڈنث کرم ملیشیا ہی کو دینا پڑے گا۔ سرکاری حلقوں کی طرف سے دعوی کیا جاتا ہے کہ گویا کرم کے شیعہ مظلومین کو شہید کرنے والے دہشت گردوں کا حکومت پاکستان سے کوئی تعلق نہیں ہے مگر حقیقت تو یہ ہے کہ یہ دہشت گرد ٹولے حکومت کے تمام فیصلوں پر اثرانداز ہورہے ہیں اور حکومت بیچاری کا واحد فریضہ صرف یہی ہے کہ ان کی ہدایات کے مطابق چلتی رہے، ان سے لاشیں وصول لیا کرے اور شہیدوں کی کٹے پھٹے اور جلے بھنے مظلوم جسم ان کے خاندانوں تک پہنچاتی رہے! کتنی بیچاری ہوسکتی ہے وہ حکومت جو اپنی عملداری کے اندر ہی اپنے دست پروردہ دہشت گردوں کے رحم و کرم پر ہو اور دہشت گردوں کے فرامین کے نفاذ کے سوا ان کے پاس دوسرا کوئی چارہ ہی نہ ہو؛ اہم سوال یہ ہے کہ وہ حکومت ہی کیا ہوگی جو دہشت گردوں اور اپنے عوام کے درمیان دلالی یا نام نہاد ثالثی کا کردار ادا کرتی ہو اور دہشت گردوں کے لئے ٹھکانہ بنانے کے لئے اپنے عوام پر حملے کرتی اور کراتی ہو؟ [شلوزان پر خونریز لڑائی جلال الدین حقانی کے لئے دہشت گردی کا کیمپ قائم کرنے کے لئے تھا] (1) اور جب مصالحت کا اعلان کرے تو دہشت گردوں کی مرضی سے وہ مصالحت ٹوٹ جایا کرے اور یہ بیچاری کچھ بھی کرنے سے عاجز ہو۔ ہمیں ایک صارف نے کبھی سوال اٹھا کر لکھا تھا کہ "پاکستان کا ستر فیصد بجٹ کھانے والی فوج اور ایٹمی طاقت ہونے کی دعویدار حکومت کیا واقعی وجود بھی رکھتی ہے؟"۔انھوں نے کہا تھا کہ یا تو فوج طالبان کے ہاتھوں بک گئی ہے یا پھر اس کا کوئی خارجی وجود ہی نہیں ہے بلکہ پوری حکومت اور فوج ان ہی کے ماتحت ان ہی کی مرضی کے مطابق کام کررہی ہے! اور یہ کہ جو اپنے محب وطن عوام کی حفاظت نہ کرسکے وہ نیوکلیائی ایسٹس (Assets) کا تحفظ کیونکر کرسکے گی؟یہاں یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ "کالعدم تحریک طالبان کرم ایجنسی نے لاشوں کو لوئر کرم میں ایف سی اور پولیٹیکل انتظامیہ کے حوالے کر دیا"۔اس بات کا مطلب تو بڑا واضح ہے کہ طالبان دہشت گردوں نے سرکاری اہلکاروں کو لاشیں عالم غیب سے حوالے نہیں کیں بلکہ ان کی باقاعدہ ملاقات ہوئی لیکن حکومت نے بقیہ 32 مغوی مسافرین کو بازیاب کرانے کی کوئی کوشش نہیں کی اور انہیں پکڑا نہیں بلکہ بڑی شرافت سے لاشیں قبضے میں لے کر پاراچنار کا رخ کیاـ اپنے فرائض منصبی یعنی لاشوں کی ادھر ادھر منتقلی پر عمل کرنے کے لئے ـ انھوں نے بقیہ مغویان کا اتہ پتہ پوچھنے کی بھی زحمت گوارا نہیں کی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت اور طالبان کے درمیان آنکھ مچولی در حقیقت دوستانہ کھیل کا حصہ ہے اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے ہے اور یہ بھی پاکستانی حکومت اور فوج کا فرض منصبی ہے کہ وہ اپنے عوام کی قربانیاں دے دے کر طالبان ـ خاص طور پر جلال الدین حقانی دہشت گرد ٹولے اور ان سے وابستہ طالبان گروپس ـ کو پالتی پوستی رہے جب تک کہ وہ بھی حکومت اور فوج کی گود میں پلنے والے دوسرے دہشت گرد ٹولوں کی طرح اپنے ہتھیاروں کا رخ اسلام آباد کی جانب کردیں جس کے بعد معلوم نہیں کہ قبائلی علاقوں میں بظاہر ناامنی کا رونا رونے اور امن کا بھیک مانگنے والی حکومت کا مزید کیا حشر ہوگا یہ تو وقت ہی بتائے گا۔پاراچنار واحد قبائلی علاقہ ہے جس کے عوام اسلام آباد کے اطاعت گذار ہیں جبکہ باقی قبائلی ایجنسیوں کے عوام نے حکومت کے خلاف باقاعدہ بغاوت کی ہوئی ہے۔ حکومت کے اہلکار صرف پاراچنار میں سڑکوں پر دکھائی دیتے ہیں جبکہ دوسری ایجنسیوں میں وہ باہر آنے کی جرأت تک نہیں کرسکتے تاہم حکومت اور فوج والے جو سزا پاراچنار کے محب وطن پاکستانیوں کو دے رہے ہیں اس کی مثال کسی بھی مہذب ملک کی تاریخ یا جغرافئے میں نظر نہیں آتی۔ دوسری جانب سے مہمند ایجنسی کی تحصیل بائیزئی میں طالبان نے افغانستان سے مال لانے والے تین ہینو ٹرکوں کو روک کر انہیں آگ لگا دی جبکہ ڈرائیور محب علی اور کنڈیکٹر یوسف کو قتل کر دیا جبکہ دو ڈرائیور فرار ہو گئے۔ طالبان نے قتل کرنیکی ذمہ داری قبول کر لی۔کیا عجیب یہ عجیب نہیں ہے کہ آپ کی عملداری میں قتل بھی کریں اور ذمہ داریاں بھی قبول کریں اور آپ حکومت یا فوج کہلوانے پر اصرار کرتے ہوئے بھی حکومت یا فوج ہونے کا ثبوت فراہم کرنے سے قاصر ہوں!!؟؟؟ہم راستے کے بارے میں کچھ نہیں کہتے کہ یہ راستہ کھلا بھی تھا یا نہیں اور اگر کھلا تھا تو بند کیوں ہوا اور کھلا نہیں ہے تو حکومت اور فوج اور ایحنسیاں جو عوام کو تحفظ نہیں دے رہیں کیا دہشت گردوں کی صف میں قرار نہیں پائی ہیں؟ کیا دہشت گردوں کو دہشت گردی کی کھلی چھٹی دینے کا مطلب یہی نہیں ہے کہ حکومت اور دہشت گردوں کے درمیان کوئی بھی رکاوٹ حائل نہیں ہے۔ قومیں اپنے ساتھ ہونے والے مظالم کو نہیں بھولا کرتیں اور پاراچنار کے عوام کبھی بھی نہیں بھول سکیں گے کہ انہیں قوم و ملک کی محبت کی سزا دی گئی۔محب الوطنی کی جو سزا عوام کو دی جارہی ہے وہ ہمیشہ ہمیشہ اس مہذب قبائلی ایجنسی کے عوام کو یاد رہے گی۔ لیکن کیا لمبے عرصے تک ظلم و جور اور نا انصافی اور قتل و غارت کے باوجود نسلوں کی محب الوطنی کی ضمانت فراہم کی جاسکتی ہے؟ کیا چند نام نہاد افراد کو قائل کرکے پوری قوم پر نامعلوم فیصلے ٹھونس کر اور پھر انہیں توڑ کر ملکی سالمیت اور ملکی سرحدوں کے تحفظ کی ضمانت طویل عرصے تک دینا ممکن ہے؟ان دنوں پاراچنار سے لے کر پشاور تک کی نام نہاد قومی شاہراہ پر مستقل قیام امن مملکت پاکستان کی عالمی حیثیت کے لئے بہت بڑا چیلنج بنا ہوا ہے جبکہ دوسری جانب سے قیام امن علاقے کی شیعہ اور سنی آبادی کی بڑی خواہش اور آرزو بھی ہے کیونکہ قتل و غارت بالفاظ دیگر شیعیان پاراچنار کی نسل کشی کا یہ سلسلہ ایسا بھی نہیں ہے جس سے صرف اہل تشیع کو تکلیف ہو۔عجب یہ کہ حکومت اور حکومت سے وابستہ لوگوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ "امن کی امیدیں ایک بار پھر دم توڑتی ہوئی نظر آرہی ہیں" لیکن افسوس کے ساتھ ان سے یہی پوچھنا پڑتا ہے کہ وہ کس امن کی بات کررہے ہیں جس کے ٹوٹنے کا خطرہ ہے؟ جس سڑک پر روز فائرنگ ہوتی ہے اور کئی مسافروں کا خون بہایا جاتا ہے اور نہتے مسافروں کو اغوا کرکے ان کے سرقلم کرکے لاشیں جلائی جاتی ہیں وہاں یہ حضرت کس امن کی بات کررہے ہیں؟ بقول غالب کعبے کس منہ سے جاؤگے غالب شرم تم کو مگر نہیں آتی یادرہے کہ حکومت نے بعض افراد کی ایک نامعلوم شخص سے صلح کرادی تھی جس نے بظاہر اورکزئی ایجنسی یا علاقہ غیر کے کسی گوشے سے ٹیلیفون پر کہا تھا کہ وہ مصالحتی معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں طالبان دہشت گردوں کے خلاف "شریعت محمدی (ص) کے تحت" سخت کاروائی کرے گا (2) لیکن بار بار حملوں کے بعد اب یہ بھی معلوم ہوچکا ہے کہ دہشت گردوں کی شریعت محمدی محمد مصطفی (ص) والی شریعت نہیں ہے بلکہ کسی قاتل یا انسانیت کش طالبان اہلکار سے منسوب کسی قانون کا نام ہے یا قذافی کی سبز کتاب میں لکھے انسانیت کشی کے کسی قانون کا نام ہے جس میں نہ تو قول و زبان اور وعدے کی کوئی پابندی ضروری ہوتی ہے اور نہ ہی شرم و حیا، مثبت قبائلی روایات، چادر اور چاردیواری اور نہتے انسانوں سے بدسلوکی اور انہیں قتل کرنے سے منع کیا جاتا ہے۔ درحقیقت ان کی شریعت ہی اسلام سے الگ ہے جسے طالبان یا وہابی شریعت ہی کہا جائے تو زیادہ درست ہوگا اور ہم جانتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام میں نہ تو طالبان نام کا کوئی نبی گذرا ہے اور نہ وہابی نام کا۔ صورت حال یہ ہے کہ تازہ ترین واقعات کے بعد حالات کشیدہ ہیں، پشاور پاراچنار روڈ تھوڑے سے عرصے تک کھلا رہنے کے بعد ہر طرح کی ٹریفک کے لئے بند ہے اور حکومت کی بجائے سڑکوں پر طالبان گشت کررہے ہیں؛ اور چار سال تک بند رہنے کے بہت ہی مختصر عرصے کے لئے کھلنے والی نام نہاد قومی شاہراہ مکمل طور پر بند ہے۔ "البتہ اسی شاہراہ پر سرکاری گاڑیوں کی نقل و حرکت مسلسل جاری رہتی ہے اور بعید از قیاس نہیں ہے کہ گاڑیوں پر سوار فوجی ان کے ساتھ علیک سلیک بھی کرتے ہوں! دوستوں کے بیچ ایسا ہونا معمول کی بات ہی تو ہے"۔یادرہے کہ کسی زمانے میں پاراچنار کے عوام افغانستان کے راستے سے پشاور کا سفر اختیار کیا کرتے تھے لیکن وہ راستے بھی حکومت پاکستان نے مختلف حیلوں بہانوں سے بند کردیئے ہیں اور اس وقت غزہ تو کیا شعب ابی طالب (ع) سے بھی سخت صورت حال کا سامنا ہے۔ دریں اثنا پاکستانی ذرائع کے مطابق مقامی قبائل نے کرم ایجنسی میں پھیلتی ہوئی بدامنی کاالزام سول انتظامیہ اور حکومت پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرم ایجنسی کی وسطی اور زیریں تحصیلوں میں حکومتی رٹ نام کی کوئی شے موجود نہیں ہے۔ انھوں نے کہاہے کہ یہ علاقے مکمل طور پر عسکریت پسندوں کے قبضے میں ہیں اور یہاں عام لوگوں کی جان ومال محفوظ نہیں ہے۔ رپورٹس کے مطابق علاقے کے مخدوش حالات کے باعث اکثر لوگ اپنا گھر بار، کاروبار اور زمینیں چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہورہے ہیں۔ گذشتہ ماہ طے پانے والے امن معاہدے کی سب سے اہم شق پشاور پاراچنار شاہراہ کھولنے کے علاوہ اس کی حفاظت کی ذمہ داری حکومت کی جانب سے قبول کرنا تھی لیکن واقعات سے معلوم ہوا کہ حکومت نہ تو قیام امن میں سنجیدہ ہے اور نہ ہی وہ عام قبائل کے جان ومال اور آمد و رفت کو کوئی تحفظ دینے کے لئے تیار نظر آتی ہے۔فروری میں بھوربن اور اسلام آباد میں امن مذاکرات میں مرکزی کردار اداکرنے والے امن جرگے کے سربراہ، سابق وزیر مملکت اور پیپلزپارٹی فاٹا کے صدر ملک وارث خان آفریدی ابھی تک امن معاہدے کے تحفظ کی باتیں کررہے ہیں، اور انھوں نے کہا ہے کہ درپیش خطرے کے پیش نظر فریقین سے رابطوں کاسلسلہ شروع کردیا ہے!۔ ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا ہے کہ ان کی اولین ترجیح اغواء شدہ افراد کی بحفاظت بازیابی کے علاوہ ["ٹوٹے ہوئے"] امن معاہدے کو ہر حال میں برقرار رکھنا ہے!۔انھوں نے کہا کہ امن جرگے نے فریقین سے رابطے کے بعد دونوں فریقوں کو پرامن رہنے کے لئے کہا ہے اور اس ضمن میں ہم نے مقامی سول انتظامیہ کے علاوہ گورنر خیبر پخت
پاراچنار - وہابی صہیونی درندگی کا ایک اور ثبوت:
کرم ایجنسی میں دہشت گردوں نے 8 شیعہ مغویوں کو ذبح کرکے ان کی لاشیں جلا دیں / مفصل رپورٹ / تجزیہ
23 اپریل 2011 - 19:30
News ID: 238163
لوئر کرم ایجنسی میں حکومت کے حمایت یافتہ دہشت گردوں نے 40 مغویوں میں سے 8 کو ذبح کرکے شہید کردیا اور ان کی نعشیں جلا دیں اور بزدلی اور درندگی کا ایک نیا ثبوت پیش کیا/ بے سر اور جلے ہوئے جسم جمعہ کے روز پاراچنار منتقل ہوگئیں/ واقعے کے بعد علاقے میں پھر کشیدگی/ مہمند ایجنسی میں دہشت گردوں نے ٹرک ڈرائیور اور کلینر کو شہید کرکے انکی 3 گاڑیاں نذر آتش کر دیں۔ / اپڈیٹ: شہداء کے نام